بِسمِ اللہ الرّحمٰنِ الرّ حِیم مقدمہ صحیح مسلم اردو ترجمہ - 24 March 2012 - MUHAMMAD ZAHEER ANWAR B.A COMP. SCIENCES
Muhammad Zaheer Anwar
Login form

MENU

Block title
Block content

Statistics

Welcome, Guest · RSS 21 Aug 2018, 0:21:36 AM

Main » 2012 » March » 24 » مقدمہ صحیح مسلم اردو ترجمہ
11:43:02 PM
مقدمہ صحیح مسلم اردو ترجمہ
صحیح مسلم:جلد اول:حدیث نمبر 1              مکررات 1
 سب تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا پالنے والا ہے اور اللہ تعالیٰ خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور تمام انبیاء اور رسولوں پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے ۔ بعد حمد وصلوة امام مسلم اپنے شاگرد ابواسحاق کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم فرمائے کہ تو نے اپنے پروردگار ہی کی توفیق سے یہ ذکر کیا تھا کہ دین کے اصول اور اس کے احکام سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو احادیث مروی ہیں ان تمام احادیث کی تلاش و جستجو کی جائے اور وہ احادیث جو ثواب عذاب اور رغبت اور خوف وغیرہ کے متعلق مروی ہیں یعنی فضائل واخلاق کے متعلق حدیثیں اور ان کے سوا اور باتوں کی اسناد کے ساتھ جن کی رو سے وہ حدیثیں نقل کی گئی ہیں اور جن کو علماء حدیث نے قبول کیا ہے اللہ تعالیٰ تم کو ہدایت دے کہ تم سے اس بات کا ارادہ ظاہر کیا کہ اس قسم کی تمام احادیث کا ایک مجموعہ تیار کیا جائے اور تم نے یہ سوال کیا تھا کہ میں ان سب حدیثوں کو اختصار کے ساتھ تمہارے لئے جمع کروں اور اس میں تکرار نہ ہو اس لئے کہ تکرار سے مقاصد یعنی احادیث میں غور وخوض کرنے اور ان سے مسائل کے نکالنے میں رکاوٹ پیدا ہوگی اللہ تعالیٰ تمہیں عزت عطا فرمائے تم نے جس بات کا سوال کیا جب میں نے اس پر غور کیا اور اس کے انجام کو دیکھا اللہ کرے اس کا انجام اچھا ہو تو سب سے پہلے دوسروں کے علاوہ مجھے خود فائدہ ہوگا بہت سے اسباب سے پہلے دوسروں کے علاوہ مجھے خود فائدہ ہوگا بہت سے اسباب کی وجہ سے جن کا بیان کرنا طویل ہے مگر اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس طرح سے تھوڑی سی احادیث کو یاد رکھنا مضبوطی اور صحت کے ساتھ آسان ہے خاص کر ان لوگوں کے لئے جنہیں صحیح اور غیر صحیح احادیث میں جس وقت تک دوسرے لوگ واقف نہ کرائیں تمیز ہی حاصل نہیں ہو سکتی پس جب معاملہ اس میں ایسا ہی ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا تو ارادہ کرنا کم صحیح روایات کی طرف زیادہ ضعیف روایات سے افضل و اولی ہے اور امید کی جاتی ہے کہ بہت سی روایات کو اس شان سے بیان کرنا اور مکررات کو جمع کرنا خاص خاص لوگوں کے لئے نفع بخش ہے جن کو علم حدیث میں کچھ حصہ اور بیداری عطاء کی گئی ہے اور حدیث کے اسباب وعلل سے معرفت حاصل ہے پس اگر اللہ نے چاہا تو ایسا شخص جس کو علم حدیث سے کچھ علم دیا گیا ہے وہ کثرت کے ساتھ جمع شدہ احادیث سے فائدہ حاصل کرسکتا ہے بہرحال عام لوگوں میں سے جو صاحب واقفیت ومعرفت ہیں کے برعکس ہیں ان کے لئے کثرت احادیث کا کوئی فائدہ نہیں اور تحقیق وہ کم احادیث کی معرفت سے عاجز آگئے ہیں ۔ پھر اگر اللہ نے چاہا تو ہم شروع ہوں گے نکالنے میں ان احادیث کے جس کا تم نے سوال کیا ہے اور تالیف اس کی ایک شرط پر عنقریب میں اس کو تمہارے لئے ذکر کروں گا اور وہ شرط یہ ہے کہ ہم ارادہ کرتے ہیں ان تمام احادیث کا جو سندا متصلا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہیں پس ہم ان کو تقسیم کرتے ہیں تین اقسام پر اور راویوں کے تین طبقات ثقہ متوسطین ضعفاء پر بغیر تکرار کے ہاں یہ کہ ایسی جگہ میں حدیث آجائے کہ مستغنی نہ کیا جائے اس حدیث کے تکرار سے اس میں معنا زیادتی ہو یا اسناد واقع ہو دوسری اسناد کے پہلو میں کوئی علت کسی علت کی وجہ اور ضرورت کے پیش نظر تکرار ہوگا ۔ کیونکہ ایسے معنی کی زیادتی حدیث میں جس کے احتیاج ہو تو وہ مثل ایک پوری حدیث کے ہے پس ضروری ہوا اس حدیث کا اعادہ کرنا جس میں وہ زیادتی موجود ہو یا یہ کہ جدا کیا جائے وہ معنی پوری حدیث سے اختصار کے ساتھ جب ممکن ہو لیکن اس کا جدا کرنا کبھی مشکل ہوتا ہے اس پوری حدیث سے تو اس خاص ضرورت ومصلحت کے تحت ہم اس پوری حدیث کا اعادہ کردیتے ہیں لیکن اگر تکرار سے بچنے کی کوئی صورت نکل سکے تو ہم ہرگز اعادہ نہیں کریں گے ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ قسم اول میں ہم ان احادیث مبارکہ کو بیان کریں گے جن کی اسانید دوسری احادیث کی اسانید اور عیوب ونقائص سے محفوظ ہوں گی اور ان کے راوی زیادہ معتبر اور قوی وثقہ ہوں گے حدیث میں کیونکہ نہ تو ان کی روایت میں سخت اختلاف ہے اور نہ فاحش اختلاط جیسا کہ کثیر محدیثن کی کیفیت معلوم ہوگئی ہے اور یہ بات ان احادیث کی روایت سے پائے ثبوت تک پہنچ چکی ہے پھر ہم اس قسم کے لوگوں کی مرویات کا ذکر کرنے کے بعد ایسی احادیث لائیں گے جن کی اسانید میں وہ لوگ ہوں جو اس درجہ اتقان اور حفظ سے موصوف نہ ہوں جو اوپر ذکر ہوا لیکن تقوی پرہیزگاری اور صداقت وامانت میں ان کا مرتبہ ان سے کم نہ ہوگا کیونکہ ان کا عیب ڈھکا ہوا ہے اور ان کی روایت بھی محدیثن کے ہاں مقبول ہے جیسا کہ عطا بن سائب اور یزید بن ابی زیاد لیث بن ابی سلیم اور ان کی مثل حاملیں آثار اور نقول احادیث اگرچہ اہل علم میں مشہور اور مستور ہیں محدیثن کے پاس اتقان اور استقامت روایت میں ان سے بڑھ کر ہے حال اور مرتبہ میں اہل علم کے ہاں بلند درجہ اور عمدہ خصلت ان کو فضلت والوں میں سے کر دیتی ہے کیا تم نہیں دیکھتے جب تم ان تینوں کا جن کا ہم نے نام لیا عطا یزید اور لیث کا منصور بن معتمر اور سلیمان اعمش اور اسماعیل بن خالد سے مواز  نہ کر و حدیث کے اتقان اور استقامت میں تو تم ان کو بالکل ان سے جدا اور الگ پاؤگے ہرگز ان کے قریب نہ ہوں گے اس بات میں محدیثن کے ہاں بالکل شک نہیں ہے اس لئے کہ ان کے ہاں ثابت ہوگیا ہے صحت حفظ منصور اور اعمش اور اسماعیل کا اور ان کا اتقان حدیث میں نہیں پہچان حاص کر سکے ان جیسی عطاء یزید اور لیث سے اور ایسی ہی کیفیت ہے جب تو ہم عصروں کے درمیان مواز  نہ کر ے جیسے ابن عوف اور ایوب سختیانی کا عوف بن ابی جمیلہ اور اشعث حمرانی کے ساتھ یہ دونوں مصاحب اور ساتھ تھے حسن بصری اور ابن سیرین کے جیسا کہ ابن عوف اور ایوب سختیانی ان کے ساتھی ہیں ہاں بے شک ان دونوں میں بڑا فرق ہے ابن عوف اور ایوب کا درجہ اعلی ہے کمال فضل اور صحت روایت میں اگرچہ عوف اور اشعث بھی اہل علم کے ہاں سچے اور امانت دار ہیں لیکن اصل حال درجے کے اعتبار سے ہے ۔ محدیثن کے ہاں وہی ہے جو ہم نے بیان کیا ہم نے اس لئے یہ مثالیں دی ہیں کہ جو لوگ محدثین کے اصول اور تنقیدی طریق کار کو نہیں جانتے وہ آسانی کے ساتھ راویوں کے مقام ومرتبہ کی پہچان حاصل کر سے تاکہ بلند مرتبہ راوی کو کم اور کم مرتبہ محدث کو اس سے زیادہ مرتبہ نہ دیا جائے اور ہر محدث کو اس کے منصب کے مطابق مقام ومرتبہ میسر آئے اور تحقیق سیدہ عائشہ صدیقہ سے روایت ذکر کی گئی ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ہم لوگوں سے انکے مرتبہ اور منصب کے مطابق سلوک کریں اور اسکی تائید قرآن سے بھی ہوتی ہے اللہ عزوجل کا فرمان ہے وفوق کل ذی علم علیم ہو عالم سے بڑھ کر علم والا ہوتا ہے ۔ انہی طریقوں پر جو ہم نے اوپر بیان کئے ہیں جمع کرتے ہیں جو تم نے سوال کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیثوں سے ہاں وہ لوگ جو اکثر یا تمام محدثین کے نزدیک مطعون ہیں جیسے عبداللہ بن مسور ابوجعفر مدائنی عمرو بن خالد عبدالقدوس شامی محمد بن سعید مصلوب غیاث بن ابراہیم سلیمان بن عمرو ابی داؤد نخعی اور ان جیسے دوسرے لوگ جن پر وضع حدیث کی تہمت ہے وہ ازخود احادیث بنانے میں بدنام ہیں اسی طرح وہ لوگ بھی جن کی اکثر احادیث منکر ہوتی ہیں یا غلط روایات تو ایسے تمام لوگوں کی روایات کو ہم اپنی کتاب میں جمع نہیں کریں گے ۔ اصطلاح اصول حدیث میں منکر اس شخص کی حدیث کو کہتے ہیں جو ثقہ اور کامل الحفظ راویوں کی روایت کی خلاف روایت کرے یا ان احادیث کی کسی موافقت نہ ہو پس جب اس کی احادیث میں سے اکثر اسی طرح ہوں تو وہ متروک الحدیث ہوگا اور اس کی مرویات محدثین کے نزدیک قابل قبول اور قابل عمل نہیں ہوتیں اس قسم کے محدثین میں سے عبداللہ بن محرر یحیی بن ابی انیسہ جراح بن منہال ابوالعطوف اور عباد بن کثیر اور حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ اور عمر بن صہبان وغیرہ اور ان کی مثل دوسرے حضرات منکر حدیث روایت کرنے والے ہیں پس ہم ان لوگوں کی روایات نہیں لاتے اور نہ ہی ان میں مشغول ہوتے ہیں کیونکہ اہل علم کا حکم ہے اور جو ان کے مذہب سے معلوم ہوا وہ یہ ہے کہ جو راوی اپنی روایت میں متفرد ہو لیکن اس کی بعض روایات کو بعض دوسرے ثقہ اور حفاظ راویوں نے بھی روایت کیا ہو اور کسی حدیث میں اس کی موافقت کی ہو جب یہ شرط پائی جائے پھر اس کے بعد وہ متفرد راوی اپنی روایت میں کچھ الفاظ کی زیادتی کرتا ہے جن کو اس کے دوسرے معاصرین نے روایت نہیں کیا تو اس کی زیادتی قبول کی جائے گی لیکن اگر تم کسی کو دیکھو کہ وہ زہری جیسے بزرگ شخص سے روایت کرنے کا قصد کرے جس کے شاگرد کثیر تعداد میں حافظ ومتقن ہیں جو اس کی اور دوسروں کی حدیثوں کو روایت کرتے ہیں یا ہشام بن عروہ سے بھی روایت کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ان دونوں محدیثن کی روایات اہل علم کے ہاں بہت مشہور اور پھیلی ہوئی ہیں ان کے شاگردوں نے بھی ان کی اکثر روایات کو بالاتفاق روایت کیا ہے پس اگر کوئی محدث ان مذکورہ بالا دونوں محدثین سے یا ان میں سے کسی ایک سے ایسی روایت کا راوی ہو جس روایت کو ان کے شاگردوں میں سے کسی نے بیان نہ کیا ہے اور یہ راوی ان راویوں میں سے بھی نہیں جو صحیح روایات میں ان کے مشہور شاگردوں کا شریک رہا ہو تو اس قسم کے راوی کی حدیث کو قبول کرنا جائز نہیں اللہ ہی بہتر جاننے والا ہے ۔ ہم نے روایت حدیث کے سلسلہ میں محدثین کے مذہب کو بیان کر دیا ہے تاکہ جو لوگ اصول روایت حدیث سے ناواقف ہیں ان کو بھی ابتدائی معلومات حاصل ہوجائیں جن کو توفیق دی جائے لوگوں میں سے اور ہم عنقریب اس کو شر اور وضاحت سے بیان کریں گے اگر اللہ نے چاہا اس کتاب کے کئے مقامات میں معللہ اخبار کے ذکر کے موقع پر جب وہ اپنے مقامات میں آئیں گی اور جہان شرح کرنا اور وضاحت کرنا مناسب ہوگا ۔ اے شاگرد عزیز ! ان تمام مذکورہ بالا باتوں کے بعد اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے اگر ہم برے کا برا عمل نہ دیکھتے جو وہ کر رہے ہیں یعنی وہ محدث صحیح اور مشہور روایت پر اکتفا نہیں کرتا اور وہ اپنے جی میں محدث بنا ہوا ہے ایسے شخص پر لازم ہے کہ وہ ضعیف اور منکر احادیث کو نقل نہ کرے اور صرف انہیں اخبار کو نقل کرے جو صحیح اور مشہور ہیں جن کو معروف ثقہ لوگوں نے سچائی اور امانت کے ساتھ اس معرفت اور اقرار کے بعد روایت کیا ہے ان کی بیان کردہ اکثر روایات جو نامعلوم افراد کی طرف منسوب ہیں منکر اور غیر مقبول ہیں اور ایسے لوگوں سے مروی ہیں جن کی مذمت آئمة الحدیث میں سے مالک بن انس شعبہ بن حجاج سفیان بن عینیہ یحیی بن سعید القطان اور عبدالرحمن بن مہدی وغیر ہم نے کی ہے جب آسان ہو گیا ہم پر تیری خواہش کا پورا کرنا صحیح احادیث کی تمیز اور تحصیل کے ساتھ لیکن اسی وجہ سے جو ہم نے بیان کی کہ لوگ منکر روایات کو ضعیف اور مجہول اسناد سے روایت کرتے ہیں اور عوام کو سناتے ہیں جن میں عیوب کی پہچان کی لیاقت نہیں تو ہمارے لوگوں پر تیرے سوال کو جواب دینا آسان ہوگیا ۔
Views: 1401 | Added by: mza_pakistani | Rating: 3.2/4
Total comments: 0
Name *:
Email *:
Code *:
Copyright MyCorp © 2018